Home Urdu

    نقاب چشم مسلسل اٹھائی جاتی ہے میں پی چکا تھا مگر پھر پلائی جاتی ہے جھلک سے تور پر بجلی گرائی جاتی ہے یہ آگ خود نہیں لگتی لگائی جاتی ہے تم اپنی مست نگاہوں کو کیوں نہیں کہتے ہمیں شراب کی تہمت...
Filed in: Poetry, Urdu

میری سوچ

Posted by on December 3, 2011
کبھی کبھی انسان بیٹھے بیٹھے خود سے سوالات کرنے لگتا ہے اور اپنے تمام سوالات کے جوابات بھی وجدان، تجربہ، تحقیق جیسے اوزاروں کے ساتھ تراشتا رہتا ہے ایسا ہی کچھ اب سے جند منٹ پہلے میرے ساتھ ہوا ۔ سوال...
Filed in: Urdu

Page optimized by WP Minify WordPress Plugin

القلم دینی علمی ادبی روابط اب ایک نئے انداز میں